Rafi Ahmad Khan

؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ھم تنزلی کی جانب کیوں محوِ سفر ھیں؟ ؛؛؛؛؛؛؛
جب کبھی سوچوں کی اتھاہ گہری جھیل میں اترتا ھوں اور دنیا و مافیہا سے بےخبر ھو جاتا ھوں تو مجھ پر یہ راز منکشف ھوتا رھتا ھے کے ھم اب عمل کے نہیں گفتار کے بندے ھو کر رہ گے ھیں ااور جس مقصدِ اولٰی کے لیئے اللہ تبارک تعالٰی نے ھم کو پیدا کیا ھے ھم اس سے لاتعلق سے ھوتے جارھے ھیں۔ ھم نے آخرت کو دوسروں کو ڈرانے اور اپنے مفاد کے حصول کا ذریعہ بنا لیا ھے اگر غور سے مشاھدہ کیا جائے تو ھمارے قول و کردار سے یہ ظاھر ھو رھا ھے کہ جو کچھ ھے یہی عارضی اور فانی زندگی اور اس کے ثمرات ھی ھے اور اسی لیئے ھم رات دن اسی کو سنوارنے میں کولہو کے بیل کی طرح جٹ گے ھیں۔ ھمیں ھمارے رب نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے قولاً و عملاً یہی سبق دیا کہ یہ دنیا و مافیہا اور اس کے تمام لوازمات اور محصولات سب عارضی اور فانی ھیں اور اصل ھی ھے جس کے لیئے اس دنیا میں محنت کرنی ھے اور یہی ھمراے روز روز کے مشاھدے میں بھی آیا کہ کوئی بھی شخص اس فانی دنیا کی کوئی چیز اپنے ساتھ لے کر نہیں گیا بلکہ جس طرح خالی ھاتھ آیا تھا اسی طرح خالی ھاتھ واپس پلٹ رھا ھے۔ ھمیں دینِ فطرت اسلام نے اخوت بھائی چارے محبت اور ایک دوسرے کے قربانی کا درس دیا اور بلا احسان صدقہ و خیرات کرنے کی تلقین فرمائی تاکہ ھم خود بھی ازمائش کی ان گھڑیوں میں سرخرو ھوتے رھیں اور اپنے ان بھائیوں کو جن کی مفلسی بھی ھمارے لیئے اور ان کے لیئے ازمائش ھے کو بھی سرخرو ھونے میں مدد دیں۔ یہ وہ سر بتہ راز ھے کہ ھماری امارت ھمارے لیئے اگر ایک ازمائش ھے تو مفلسی بھی نہ صرف ھمارے لیئے بلکہ اھلِ ثروت کے لیئے بھی ازمائش ھے کہ ھم اس مفلسی پر کتنا صبر کرتے ھیں اور اھلِ ثروت اللہ کے دیئے میں سے کس قدر ان اھلِ افلاس پر خرچ کرتے ھیں۔ خیر یہ تو ھر شخص جانتا ھے مگر کتبی تحریروں کی صورت۔بات ھو رھی تھی ھماری تنزلی کی تو میرے مراقبے مجھ پر اس راز کو وقتاً فوقتاً منکشف کرتے رھتے ھیں کہ ھم صراط المستقیم کو چھوڑ کر صراط الابلیس و دجال کی جانب گامزن ھوتے جا رھے ھیں اسی لیئے ھماری دینی غیرت و حمیت غارت ھوتی جا رھی ھے۔ ھم نے اسلامی اصولوں میں کامیابی ڈھونڈنے کے بجائے یہود و نصارٰی کی تقلید میں سراب کھانا شروع کر دیا اور یہودیت اور نصرانیت کی طرز پر اسلام کو بھی جدت بخشنے کے خواھاں ھو رھے ھیں جو کہ کفر کے مترادف ھے اور ھم نے اسلامی تہذیب و تمدن کو جو کی اصل ھے دقیانوسی پر مامور کرنا شروع کر دیا اور جانوروں کے سے مغربی معاشرے کو تہذیب و تمدن گردان لیا اور ان کی ننگی اور فحاش تہذیب کو اپنانا شروع کیا اور اسی کے پیروکاروں کو تہذیب یافتہ مہذب اور تعلیم یافتہ گرداننا شروع کر دیا اور اسلای تہذیب کے حاملوں کو دقیانوس، جاھل اجڈ اور غیر تہذیب یافتہ قرار دیا اور اس کا صلہ دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کے مصداق ھم نہ دنیا کے رھے اور نہ آخرت کے بلکہ کوا چل ھنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا ھماری مثال بن گیا اور ھم مذھب سے دور ھوتے گئے اور اس دوری کے ثمرات کہ نہ ھم میں حیا رھی، نہ غیرت و حمیت رھی نہ وہ بھائی چارہ رھا اور نہ انسانیت بلکہ ھماری زندگیاں وحشتوں سے عبارت ھوتی گئیں اور ھم نے فحاشی و بے حیائی ، درندگی، کمینگی ، خود غرضی اور دکھاوے و نمودونمائش کو اپنی شان و شوکت کی علامات تصور کر لیا اور یہ بھول گے کہ ھمای اصل کیا ھے اور ھم کن سرابوں اور سائوں کے پیچھے بھاگ رھے ھیں۔ آج بھی اسلامی قوانین کا نفاذ کر دیا جائے تو وہ وقت دور نہیں کہ مشرق و مغرب میں اسلام کا جھنڈا نہ لہرایا جا سکے مگر اس کے لیئے اپنی دنیاوی خواھشات کو قربان کرنا پڑے گا۔ اور اگر ھم نے صیحح طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا تو پھر ھم ایسے مغرب نواز اور آرٹیفیشل مسلمان حکمرانوں سے بھی باخوبی نجات پا لیں گے جو مغرب کے مفاد کے محافظ بنے بیٹھے ھیں۔( جاری)
شاکر عنقاء