Cool boys and innocent girls from Mandi bahauddin

"صرف وہ لوگ پڑهے جو ایمان کی اہمیت جاننا چاہتے ہیں"
موجودہ دور میں ایمان کیسے بچایا جائے ؟ اسحاق بن منصور، ابوداؤد طیالسی، ابراہیم بن سعد بواسطہ اپنے والد، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتنے ہوں گے، پس ان میں سونے والا بیدار رہنے والے سے بہتر ہوگا اور بیدار کھڑا ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، پس جس آدمی کو کوئی پناہ کی جگہ یا حفاظت کی جگہ مل جائے تو اسے چاہئے کہ وہ پناہ حاصل کرلے۔
صحیح مسلم۔
موجودہ دور میں امت مسلمہ کی دینی اعتبار سے تباہی کا سب سے بڑا سبب قران و سنت کے علم سے غفلت ہے.دنیاوی تعلیم کیلئے تو ہم سات سمندر پار چلے جاتے ہیں لیکن محلے کے مسجد میں ملا سے سورہ فاتحہ کا ترجمہ یاد کرنے کیلئے ہمارے پاس وقت نہیں.
صبح سے شام تک سوشل میڈیا پر بیٹهکر قران و سنت کی بجائے عقل پرست اور نام نہاد مذہبی تجزیہ نگاروں کی باتوں کو شئر کرنا ہمارا محبوب مشغلہ بن چکا ہے.
اور اسی کو ہی ہم دین سمجھ بیٹھے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت اٹها کر دیکهئے کہ کیا دین کی محنت نفس کے خواہش کے مطابق ہوگی یا سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات کے مطابق؟
یہی آج اس امت کی تباہی کا سبب بن چکا ہے کہ ایمان کے ساتھ موت کی دعا تو کرتے ہیں مگر ایمان کی تقویت اور ایمان کی حفاظت کے اسباب اختیار کرنے سے ہم اکتا گئے ہیں.
سکولز کالجز او یونیورسٹیز کے 98 فیصد طلبہ و طالبات مذہب کو دور جدید کے آئینے سے دیکهنا چاہتے ہیں اور لیکن اس دور کا ہر مسلمان اس بات کو خوب زہن نشین کر لیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس امت کے اخری لوگوں کے خیر کی ابتداء اسی طریقے سے ہوگی جس طریقے سے اس امت کے اولین لوگوں کی ابتداء ہوئی تھی.
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ قرب قیامت میں فاسق و فاجر لوگ قوم کے معاملات پر بحث کریگی.جسطرح آج امت مسلمہ کے حالات پر تبصروں کے لیئے مغرب زدہ تجزیہ نگاروں کو میڈیا پر بٹها کر امت مسلمہ کے معاملات پر تبصرے کرتے ہیں اور سیکولر نظریات پر بے علم مسلمانوں کے عقائد و نظریات کو کمزور کر رہے ہیں.
اور یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے آج اچهے اچهے دینی گھرانوں کے مسلمان مذہب کے معاملے میں تذبذب کا شکار ہوگئے ہیں.
ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ہدایت کے اسباب کو قران و سنت کی روشنی کے ساتھ مخصوص کردیا گیا ہے مگر آج ہدایت کے اسباب کو سوشل میڈیا کی چادر میں لپیٹ کر امت مسلمہ جنت کی خواہش رکھ رہی ہے
اور گمان کر رہے ہیں کہ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں.
اس لیئے اپنے نظریات و افکار قران و سنت کے مطالعے پر قائم کریں نہ کہ دور جدید کے روشن خیال اور لبرل طبقات کے وضع کردہ تعلیمات پر.
آج امت مسلمہ یہود و نصاریٰ کی محنت کی وجہ سے اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کیلئے رہنمائی کا ذریعہ گهر بیٹھے سوشل میڈیا کو تو سر آنکهوں پر قبول کرتی ہے مگر دین کے علم کیلئے ان مدارس و مساجد کا رخ کرنے سے بیزار نظر آتی ہے جن مدارس و مساجد سے صحابہ کرام جیسے امت کے محسن پیدا ہوئے.
اس لیئے ایمان کی فکر کریں اور مختصر زندگی میں اپنے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ اطاعت و اتباع اپنائیے جسکی بدولت قیامت کے دن سرخروئی نصیب ہو.
وما علینا الا البلاغ