Islamic people

ہر انسان زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ایسے حالات سے یقینا دوچار ہوتا ہے ۔ جب اس کے سارے دنیاوی سہارے ٹوٹ جاتے ہیں۔ ظاہری اسباب و وسائل ناکام ہوجاتے ہیں ۔ قریب ترین عزیز و اقارب پر اعتماد نہیں رہتا۔ ماں ، باپ، بہن، بھائی گویا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی انسان تنہا و بے کس نظر آتا ہے تو وہ اس تنہائی میں تڑپنے لگتا ہے۔
مصائب نے آکے دل کو پا ش پاش کیا
تنہا ئی نے آکے تو قصہ ہی صاف کیا

اس تنہائی کے عالم میں وہ سکون کی طلب کے لئے جدوجہد کرتا ہے مگر ہر طرف سے مایوس ہوجانے پر انسان کے ضمیر سے یہ آواز اٹھتی ہے۔ کہ ایک سہارا اب بھی موجود ہے۔ ایک دروازہ اب بھی کھلا ہے ۔ وہاں انسان اپنے دکھوں اور الم بھری داستان ہر وقت بیان کر سکتا ہے ۔ اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکتا ہے۔ اس کیفیت کو اللہ نے قرآن میں کچھ اس طرح ذکر کیا ہے۔

”بھلا وہ کونسی ذات ہے جو بے قرار کی دعا اس وقت جب بے قرار اسے پکارے تو اسے قبول کرتا ہے اور پھر اس مشکل سے تمہیں نجات دیتا ہے۔ اسی عظیم ہستی نے ہی تو تمہیں زمین میں جانشین بنایا ہے۔ (اب عقل سے کام لے کر بتاﺅ کہ ایسے کام کرنے والا)اللہ کے سوا کوئی اور بھی ہے؟“(النمل26:)
قرآن کریم نے ہمارے سامنے انبیاءکرام علیہ السلام کی بہت سی مثالیں رکھی ہیں کہ انہوں نے بھی مصائب و پریشانیوں میں اللہ کو پکارا اور اللہ نے انہیں اس پریشانی سے نجات دی۔آدم علیہ السلام نے جنت سے نکالے جانے پر رب کو پکارا تو زکریا علیہ السلام نے اولاد نہ ملنے پر دعا کی ۔ یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں رب کو پکارا تو یوسف نے عورتوں کے شر سے بچنے کے لئے رب سے دعا کی ۔ ایوب علیہ السلام نے بیماری کی حالت میں رب کو پکارا تو لوط علیہ السلام نے کمزوری کی حالت میں رب سے دعا کی۔ نوح علیہ السلام نے قوم سے مایوس ہوکر رب کو پکارا تو موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے فتنے سے محفوظ رہنے کے لئے رب سے دعا کی ۔ غرض ایسی بے شمار مثالیں قرآن میں موجود ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اہمیت و فضلیت بیان کرتے ہوئے فرمایا ” اللہ کے نزدیک کوئی چیز دعا سے بڑھ کر عزت والی نہیں “(ابن حبان )
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بے شک دعا ہی عبادت ہے“ (ترمذی) بعض لوگوںکا خیال ہے کہ ہم گناہ گار ہیں گنہگاروں کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ یہ خیال شریعت کی رو سے بالکل غلط ہے۔ اے کاش ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھیں تاکہ ہماری زندگیاں بدل جائیں۔ کیا شیطان سے بڑا مردود و ملعون بھی کوئی ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ اس نے کھلم کھلا اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور اس کے بعد دعا کی ۔” اے اللہ مجھے قیامت تک (لوگوں کو گمراہ کرنے کی) مہلت دے ۔ تو اللہ نے اس کی پکار قبول کرکے مہلت دے دی(الحجر36:)
شیطان نے کسی نیک مقصد کے لئے دعا نہیں کی مگر پھر بھی قبول ہو گئی تو یہ سمجھنا کہ گناہ گاروں کی دعا قبول نہیں ہوتی محض شیطانی فریب و دھوکہ ہے۔ اگر کوئی شخص دعا کرتا ہے اور وقتی طور پر دعا قبول نہ ہو پھر دعا مانگنا چھوڑ دے یہ بھی غلط ہے۔کیونکہ قبولیت دعا کی تین صورتیں ہیں۔

(۱) دعا بندے کی خواہش کے مطابق فوراََ قبول ہوجاتی ہے۔ (۲) اس کے بدلے اس کی دنیاوی کوئی آفت ٹل جاتی ہے۔ (۳) یااس کی دعا آخرت کے لئے ذخیرہ کردی جاتی ہے۔ (رواہ احمد)